سوال

بائنہ یا مغلظہ طلاق یافتہ عورت دورانِ عدت شوہر کے گھرالگ کمرے میں سوئے یا ایک ہی کمرے میں سوسکتی ہے؟ اگر دوسرا کمرہ نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں مطلقہ الگ کمرے میں سوئے۔
اگر گھر میں ایک ہی کمرہ ہو تو اس میں پردہ لٹکاکر مطلقہ کے لئے جگہ الگ کرلی جائے۔ لیکن اگر خاوند کی طرف سے اندیشہ ہو کہ وہ پردہ کی پرواہ نہیں کرے گا تو کسی ایسی عورت کا انتظام کرلینا بہتر ہے جو خاوند کو مطلقہ سے دور رکھ سکے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو خاوند پر لازم ہے کہ وہ عدت کا دورانیہ گھر سے باہر گزارے۔ اور اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہو تو مطلقہ اپنی عدت کسی اور جگہ گزارے۔

لما فی المحیط البرھانی: (5/237، ط: دار احیاء التراث العربی)
وإذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجاباً حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة، فإن كان الزوج فاسقاً يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلاً آخر احترازاً عن المعصية، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى
و فی الھندیہ: (1/535، ط: رشیدیہ)
وإذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجاباً حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة، فإن كان الزوج فاسقاً يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلاً آخر احترازاً عن المعصية، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى
و کذا فی المبسوط للسرخسی (5-6/36، ط: دار المعرفہ)
و کذا فی التنویر مع الدر (3/537، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی شرح الوقایہ (2/153، ط: امدادیہ)
و کذا فی ملتقی الابحر (2/155 الی 156، ط: المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/156، ط: المنار)
و کذا فی الدر المنتقی (2/155 الی 156، ط: المنار)
و کذا فی البنایہ للعینی (5/449، ط: رشیدیہ)
و کذا فی شرح العینی علی کنز الدقائق (1/302، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
06/07/1442/2021/02/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:94

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔