الجواب باسم ملہم الصواب
صورت مسئولہ میں اگر بیوی اپنے دعوے پر گواہ پیش کردے تو اس پر دو بائنہ طلاقیں واقع ہو ں گی اور اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اور اس صورت میں ایک طلاق رجعی ہو گی ، اور اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر بیوی ہی کی بات معتبر ہو گی۔
لما فی سنن دار قطنی:(المجلد الثانی-4/34،دار الکتب العلمیہ)
نا أبو بكر النيسابوري ۔۔۔۔۔ عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((إذا ادعت المرأة طلاق زوجها فجاءت على ذلك بشاهد عدل،استحلف زوجها،فإن حلف بطلت شهادة الشاهد , وإن نكل فنكوله بمنزلة شاهد آخر،وجاز طلاقه))”۔
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /3، رشیدیة)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(2 /136رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /170و190،الطارق)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2 /498،497و499،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(3 /524، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9 /6985، رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5 /336و345،344، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(8 /159و163،162، رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440
13/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :88