الجواب باسم ملھم الصواب
زید اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے ،اگر زید پر حج فرض ہے تو اسے حج ضرور کرنا چاہیے،اگر اس پر حج فرض نہیں ہے اور بچے ضرورت مند ہوں تو ان کو دے ،ورنہ کسی بھی کار خیر میں صرف کر سکتا ہے۔
لمافی العنایۃ مع فتح القدیر:(6/230،رشیدیۃ)
و شرطہ من جھۃالعاقدین العقد والتمییز ،ومن جھۃ المحل کونہ مالا متقوما مقدور التسلیم ۔وحکمہ افادۃ الملک وھو القدرۃ علی التصرف فی المحل شرعا ۔
وفی بدائع الصنائع :(5/281،رشیدیۃ)
اما الاراضی المملوکۃ العامرۃ فلیس لاحد ان یتصرف فیھامن غیر اذن صاحبھا لان عصمۃ الملک تمنع من ذالک ۔۔۔۔۔حتی یجوز بیعھا وھبتھاواجارتھا وتصیر میراثا اذا مات صاحبھا۔
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃ البقرۃ :275)
وکذافی الشامیۃ:(7/14،13،رشیدیۃ)
وکذافی البحر الرائق:(5/433،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326،رشیدیۃ)
وکذافی التاتار خانیۃ:(8/212،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3320،م:رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(4/16،الطارق)
واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1440،2019/1/19
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 94