سوال

بعض دفعہ بیماری کی وجہ سے انسانی جسم کی کھال خشک ہوجاتی ہے، اگر ہاتھ سے کھینچیں تو جسم سے الگ بھی ہوجاتی ہے،لیکن خون وغیرہ کچھ نہیں نکلتا تو کیا جسم سے کھال کو اس طرح جدا کرنے سے وضو پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو نہیں ٹوٹتا۔

لما فی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/34،رشیدیة)
و لو کان علی أعضاء وضوئہ قرحة نحو الدمل و علیہ جلدۃ رقیقۃ فتوضأ و أمر الماء علی الجلدۃ ثم نزع الجلدۃ و لم یغسل ما تحتھا و صلی جازت صلوتہ
وفی الموسوعة الفقھیة:(43/340،علوم اسلامیہ)
انقلعت من وجھہ جلدۃ بعد غسلھا ھل یلزمہ غسل ما ظھر أم لا؟ فذھب الحنفیۃ و المالکیۃ فی الراجح…. إلی أنہ لایلزمہ غسل ما ظھر و لایعید وضوئہ
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/228،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(1/207،فاروقیہ)
وکذافی نور الایضاح مع مراقی الفلاح:(93،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/5،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/168،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/18،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/65،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :172

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔