سوال

بغیر وضو کے اذان اور اقامت کہنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اذان اور اقامت با وضو کہنا ہی اولیٰ و افضل ہےلیکن اگر کسی نے وضوکےبغیر اذان و اقامت کہہ دی تو اذان جائز ہوگی اور اقامت مکروہ ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الدر المختار : ( 2/ 75،رشیدیہ )
و یکرہ اذان جنب واقامتہ محدث لا اذانہ علی المذھب
وفی الھدایة: (1 / 150 ، بشری)
و ینبغی ان یؤذن و یقیم علی طھر فان اذن علی غیر وضوء جاز لانہ ذکر ۔۔۔۔۔۔۔ و یکرہ ان یقیم علی غیر وضوء
وکذافی البحرالرائق: ( 1/ 458 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ : ( 2/ 143، فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة : (1 / 54،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 374 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 1/ 709، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق : ( 1/ 93 ، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط: ( 1/ 131،بیروت )
وکذا فی کنز الدقائق : ( 19 ، حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:107

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔