سوال

بندہ آپ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہے کہ میری ایک ہمشیرہ ہے جو کہ اوکاڑہ سٹی میں رہائش پذیر ہے ان کے شوہر 7دسمبر 2018بروز جمعۃالمبارک کو خالق حقیقی سے جا ملے ہیں اب ان کے بعد ان کی بیوی بیوہ ہے اور ان کے 3 یتیم بچے ہیں ،ان میں سب سے بڑا بیٹا ہے جس کا نام حماد ہے اس کی عمر 12 سال ہے اور اس کے بعد چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام ہادیہ ہے اس کی عمر 10سال ہے اور اس کے بعد سب سے چھوٹی بیٹی ہے جس کا نام حرا ہے اس کی عمر 6سال ہے،ذرائع آمدن ان کے کوئی بھی نہیں ہیں خدا کے سہارے کے علاوہ حالات حاضرہ کے مطابق کوئی بھی سہارا نہیں ہے،اب ان بچوں کے دادا ابو اپنی وراثتی جگہ ایک مکان جو کہ رانا نرسری ایم جناح روڈ اوکاڑہ میں واقع ہے اور ایک دکان جو کہ دہلی سویٹس بیکرز کی آؤٹ سائیڈ میں واقع ہےتو یہ دونوں چیزیں داداابو بغیر کسی کو محروم کرتے ہوئے ان تین یتیم بچوں کے نام رجسٹری کروانا چاہتے ہیں ،اس رجسٹری کے 101000 اخراجات ہیں جو کہ بچوں کے دادا ابو اور ان بچوں کی والدہ ادا کرنے سے قاصر ہیں ،آیا ان اخراجات کو زکاۃ کی مد میں ادا کیا جا سکتا ہےیا نہیں؟اگر اد اکیا جا سکتا ہے تو راہنمائی فرمائی جائے۔اگر ادا نہیں کیا جاسکتا تو یہ 101000رقم بچوں کی والدہ کے سپرد کر دی جائے جو کہ مستحقہ ہیں وہ اپنی مرضی سے اس کام پر خرچ کر سکتی ہیں ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مذکورہ میں تینوں بچے اور ان کی والدہ چونکہ زکوۃ کے مستحق ہیں ،اس لیے اس مذکورہ رقم کا ان سب کو مالک بنا کر انہی کے فائدے کے لیے اس مذکورہ کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے ۔اور ان کو مالک بنانے کا طریقہ یہ ہو کہ چھوٹے دو بچوں کی طرف سے دادا ابو قبضہ کر لیں اور بڑا بچہ اور والدہ اپنے لیے خود قبضہ کر لیں ،پھر ساری رقم جمع کر کے مذکورہ کا م میں لگا دی جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/187،رشیدیہ)
منھاالفقیر)وھو من لہ ادنی شیئ وھو ما دون النصاب او قدر نصاب غیرنام وھو مستغرق فی الحاجۃفلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرۃ غیر نامیۃ اذا کانت مستغرقۃ بالحاجۃ
وفی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
ولا یصرف الی مجنون،وصبی غیر مراھق الا اذا قبض لھما من یجوز لہ قبضہ کالاب والوصی،ویصرف الی مراھق یعقل الاخذ کما فی المحیط
وکذا فی الھندیہ:(1/190،رشیدیہ)
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃالتوبہ:59)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/526،الحقانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(3/204،341،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/242،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/371،الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(3/211،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:102

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔