الجواب باسم ملہم الصواب
صورت مذکورہ میں تینوں بچے اور ان کی والدہ چونکہ زکوۃ کے مستحق ہیں ،اس لیے اس مذکورہ رقم کا ان سب کو مالک بنا کر انہی کے فائدے کے لیے اس مذکورہ کام میں خرچ کیا جا سکتا ہے ۔اور ان کو مالک بنانے کا طریقہ یہ ہو کہ چھوٹے دو بچوں کی طرف سے دادا ابو قبضہ کر لیں اور بڑا بچہ اور والدہ اپنے لیے خود قبضہ کر لیں ،پھر ساری رقم جمع کر کے مذکورہ کا م میں لگا دی جائے۔
لما فی الھندیہ:(1/187،رشیدیہ)
منھاالفقیر)وھو من لہ ادنی شیئ وھو ما دون النصاب او قدر نصاب غیرنام وھو مستغرق فی الحاجۃفلا یخرجہ عن الفقر ملک نصب کثیرۃ غیر نامیۃ اذا کانت مستغرقۃ بالحاجۃ
وفی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
ولا یصرف الی مجنون،وصبی غیر مراھق الا اذا قبض لھما من یجوز لہ قبضہ کالاب والوصی،ویصرف الی مراھق یعقل الاخذ کما فی المحیط
وکذا فی الھندیہ:(1/190،رشیدیہ)
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃالتوبہ:59)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/526،الحقانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(3/204،341،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/242،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/371،الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(3/211،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:102