سوال

بچی کانام مریحہ رکھنا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن پاک کی آیت ہے:”ولا تمش فی الارض مرحا“ اس آیت مبارکہ میں” مرحا“ کامعنی ہے ”اترانا“ اسی سے لفظ مریحہ ماخوذ ہے،لہذا اس کا معنی ہوا”اترا کر چلنے والی“ اگر چہ اس کے اور معانی بھی ہیں، مگر معروف معنی یہی ہے، لہذا معنی مذموم ہونے کی وجہ سے یہ نام رکھنا درست نہیں۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدعون یوم القیامۃباسماءکم واسماء آبائکم فاحسنوا اسماءکم
وفی المنجد:(835،خزینہ علم وادب)
مرح الرجل، بہت زیادہ خوش ہونا، اترانا، ناز سے چلنا
وکذافی التاتارخانیہ:(18/228،فاروقیہ)
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(2/422،رحمانیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/526،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(11/331،علوم اسلامیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/370،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الشرح:(6/417،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/7/1442/2021/2/17
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 129

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔