سوال

بکر نے اپنے والد سے جھگڑا کرتے ہوئے بیوی کے بارے میں کہا ”میں اسکو نہیں رکھتا ،طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں “دو دفعہ کہا پھر نکاح خواں کو فون کرکے کہا ”مجھے طلاق نامہ دیں میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں “کیا طلاق مغلظہ ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دو مرتبہ ”طلاق دیتا ہوں “کہنے سے دو رجعی طلاقیں ہوگئیں ۔باقی فون پر جو کہا ”طلاق نامہ دیں، طلاق دیتا ہوں “یہ پہلے زبانی دی ہوئی طلاق کو تحریری طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کررہا ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/393،دار احیاء تراث عربی)
و لو قال لھا انت طالق ،فقال لہ رجل :ما قلت ؟فقال :طلقتھا او قال :قلت ھی طالق فھی طالق واحدۃ فی القضاء لان قولہ فی المرۃ الثانیۃ خرج جوابا فیکون اخبارا عن الایقاع الاول
وفی بدائع الصنائع:(3/163،رشیدیہ)
و لو قال لامراتہ انت طالق ،فقال لہ رجل :ما قلت ؟فقال :طلقتھا او قال :قلت ھی طالق فھی واحدۃ فی القضاء لان کلامہ انصرف الی الاخبار بقرینۃ الاستخبار
وکذافی الشامیہ :(4/448،547،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/11،الحرمین الشریفین )
وکذافی التاتارخانیة:(4/401،فاروقیة)
وکذافی فتاوی النوازل:(210،الحقانیة)
وکذافی الھندیة:(1/355،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(4/4،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6886،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/4/1442/13/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:39

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔