سوال

بیماری سے نجات کے لیے جانور ذبح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بیماری اور آفات وغیرہ سے حفاظت کے لیے احادیث میں صدقہ کرنے کا ذکر ملتا ہے اور صدقہ کسی بھی چیز کاکیا جا سکتا ہے،خواہ اجناس کا ہو یا لباس کا ،نقدی کا ہو یا گوشت کا ،بہر حال ہر ذی قدر چیز کا صدقہ کیا جا سکتا ہے،البتہ کسی ایک ہی چیز کو لازمی سمجھ لینا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اسی مقررہ چیز مثلاًبکرا یا گوشت کے صدقہ ہی سے مجھے صحت ملے گی یا میری مراد پوری ہو گی،یہ کسی طرح بھی درست نہیں بلکہ آہستہ آہستہ آدمی کو بدعت کی طرف لے جائے گی۔

وفی الترمذی:(1/261،رحمانیہ)
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء
وفی الترغیب والترھیب:(2/11،رشیدیہ)
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم باكروا بالصدقة فإن البلاء لا يتخطى الصدقة
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/371،قدیمی)
عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أحدث فی امرنا ما لیس منہ فھو رد
وکذافی الموسوعة:(26/324،326،علوم اسلامیہ)
إن أداء الصدقة من باب إعانة الضعيف، وإغاثة اللهيف، وإقدار العاجز، وتقويته على أداء ما افترض الله عليه من التوحيد والعباداتوالصدقة شكر لله تعالى على نعمه، وهي دليل لصحة إيمان مؤديها وتصديقه، ولهذا سميت صدقة… قال النووي: الصدقة مستحبة، وفي شهر رمضان آكد، وكذا عند الأمور المهمة، وعند الكسوف، وعند المرض، والسفر
وکذافی مرقاة:(1/366،تجاریہ)
وکذافی الھندیہ:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/376،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2051،2056،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 117

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔