سوال

بیوی نفلی روزے سے ہو اور مرد اس کے ساتھ ہم بستری کر لے تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صرف بیوی پر ایک روزے کی قضاء لازم ہے، نیز عورت کو چاہیے کہ نفلی روزہ خاوند کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/394،الطارق)
“صوم واجب غیر معین:۔۔۔۔۔۔صوم التطوع فی بعد الشروع فیہ فانہ یلزم بالشروع، وعلیہ قضائہ ان افسدہ بقصد اوبغیر قصد.
وفیہ ایضا:یکرہ للمراءۃ المتزوجۃ ان تصوم نفلا الاباذن زوجھا الا عند عدم الضرر بہ.”
و فی المختصر للقدوری:(52،الخلیل)
“ولیس فی افساد الصوم فی غیر رمضان کفارۃ.”
وکذا فی رد المحتار:(2/404،سعید)
“(قولہ:اوافسد)ای ولوباکل اوجماع(قولہ:غیرصوم رمضان)۔۔۔۔وقیدبہ لافادۃ نفی الکفارۃ بافساد قضاء رمضان لا لنفی القضاء ایضا بافسادہ.”
وکذافی الھندیۃ :(1/201،رشیدیہ)
وفی الجوھرہ النیرۃ:(1/341،قدیمی)
وکذا فی الھدایۃ:(1/237،المیزان)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/،1705 تا 1708،رشیدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق:(68،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،18، 10جون2020

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔