سوال

تبلیغی جماعت کا جامع مسجد میں دوسری جماعت کروانا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

تبلیغی جماعت والے چونکہ دوسرے محلہ یا شہر کے ہوتے ہیں،اس لیے اگر وہ پہلی جماعت کی جگہ سے ہٹ کرمثلاً مسجد کے کونے میں بوقت ضرورت جماعت کرائیں تو جائز ہے۔

لما فی الشامیة:(2/342،رشیدیة)
 یکرہ تکرارالجماعۃ فی مسجد محلۃ بأذان وأقامۃ الا اذا صلی بھما فیہ أولا غیر أھلہ أو أھلہ لکن بمخافتہ الأذان ، ولو کررأھلہ بدونھما أو کان مسجد طریق جاز اجماعا، کما فی مسجد لیس لہ امام ولا موذن و یصلی الناس فیہ فوجا فوجا ، فان الأفضل أن یصلی کل فریق بأذان و أقامۃ علی حدۃ کما فی أمالی قاضیخان ونحوہ فی الدرر
وفی البحر الرائق:(1/605،رشیدیة)
یکرہ تکرارھا فی مسجد بأذان وأقامۃ   وعن أبی یوسف:انما یکرہ تکرارھا بقوم کثیر ، أما اذا صلی واحد بواحد و اثنین فلا بأس بہ و عنہ :لا باس بہ مطلقاً اذا صلی فی غیر مقام الامام وعن محمد: انما یکرہ تکرارھا علی سبیل التداعی ، أما اذا کان خفیۃ فی زاویۃ المسجدلا بأس بہ وقال القدوری:لا بأس بھما فی مسجد بھا فی قارعۃ الطریق وفی أمالی قاضیخان:مسجد لیس لہ امام ولا موذن و یصلی الناس فیہ فوجا فوجا فالأفضل أن یصلی کل فریق بأذان وأقامۃ علی حدۃ ، ولو صلی بعض أھل المسجد بأذان وأقامۃ فخافتہ ثم ظھر بقیتھم فلھم أن یصلوا جماعۃ علی وجہ الاعلان
وکذافی الھندیة:(1/83 ،رشیدیة)                  وکذافی المحیط البرھانی:(2/103،داراحیاء)
وکذا فی غنیةالمتملی:(614،رشیدیة)                              وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/275،الطارق )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/380،رشیدیة)     وکذا فی منحة الخالق علی  ھامش البحرالرائق:(1/605،الطارق )
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2 /1182،رشیدیة) وکذافی الفتاوی التاترخانیة:(2 /155،فاروقیة)
وکذا فی کتاب الفقہ علی مذاھب الاربعة:(1 /373 ،الحقانیة)

واللہ اعلم بالصواب

بندہ محمد اعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

9/8/1445/20/2/2024

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :190

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔