سوال

تعویز گلے میں لٹکانا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

ایسا  تعویز گلے میں لٹکانا جائز ہے،جو آیات قرآنی،اسمائے الہی اور اَدعیہ ماثورہ پر مشتمل ہواور یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کا اثر ہو گا۔

لما فی سنن ابی داؤد :(2 /187،رحمانیة)
عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ أن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کان یعلمھم من الفزع أعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و شر عبادہ ومن ھمزات الشیٰطین وأن یحضرون وکان عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ  یعلمھن من عقل من بنیہ ومن لم یعقل کتبہ فا علقہ علیہ
وفی فتح الباری: (10/ 240 ،قدیمی)
وقد أجمع العلماء علی جواز الرقی عند اجتماع ثلاثۃ شروط أن یکون بکلام اللہ تعالٰی أو باسمائہ وصفاتہ،وبلسان العربی أوبما یعرف معناہ من غیرہ، وأن یعتقد أن الرقیۃ لا تؤثر بذاتھا بل بذات اللہ تعالٰی
وکذافی بذل المجھود:(16/117،قدیمی)
و فیہ ایضاً:(16/121،قدیمی)
 وکذافی الصحیح المسلم:(2/231،رحمانیة)
وکذا فی المرقاة:(8/318،التجاریة)
 وکذافی نیل الاوطار:(8/240،دارالباز)
وکذا فی الشامیة:(6/265، سعید)

واللہ اعلم بالصواب

بندہ محمداعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

26/6/1445/9/01/2023

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :96

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔