الجواب حامداً ومصلیاً
اگر معمولی وقفے سے کئی اذانیں شروع ہوجائیں تو پہلی اذان کاجواب دیاجائے،خواہ قریبی مسجدکی اذان ہو یا دور کی،اگر تمام اذانیں بالکل اکٹھی سنائی دیں،توقریبی مسجدکی اذان کا جواب دے۔ایک اذان کاجواب کافی ہوگا۔
لما فی فتح القدیر: ( 1/ 254 ، رشیدیہ)
فان سمعھم معا اجاب معتبرا کون جوابہ لمؤذن مسجدہ حتٰی لوسبق مؤذنہ بعد ذالک اوسبق تقید بہ دون غیرہ من المؤذنین ولولم یعتبر ھذاالاعتبارجاز
وفی الشامیہ: (2 /87 ،رشیدیہ)
والذی ینبغی اجابۃالاول سواء کان مؤذن مسجدہ اوغیرہ، فان سمعھم معا اجاب معتبرا کون اجابتہ لمؤذن مسجدہ، ولولم یعتبر ذالک جاز
وکذا فی البحرالرائق: (1 /452 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /154 ،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/714،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/2023/20/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:13