سوال

جب کرائےپر گا ڑی لیں تو اس میں کتنے افرادبٹھا سکتے ہیں؟یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کیو نکہ عا م طور پر کار ،پانچ بندوں کی سواری کے لیے ہو تی ہے ،جبکہ کچھ گزاراکر کے چھ بھی بیٹھ سکتے ہیں اور تھوڑ ی سی مشقت کے ساتھ سات بھی سوارہو سکتے ہیں۔جب گا ڑی اپنی ہو اس میں تو آدمی گزاراکر لیتا ہے ،لہذ اکرائے کی گا ڑی کا حکم وا ضح کریں اور یہی صورت حال موٹر سا ئیکل میں بھی پیش آتی ہے جب اسے رینٹ پر لیں ،اس حکم بھی بتادیں ؟یعنی اگر گنجائش سےزیادہ بندے بٹھانے ہو ں تو مالک سے اجازت لینا ضروری ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ایک گاڑی پر جتنے افراد بیٹھ سکتےہیں ، اس سے زیادہ بٹھا نے کے لیے اجازت ضروری ہے اور بغیر اجازت زیادتی کی صورت میں کو ئی نقصان ہو گیا تو اگر گا ڑی اتنے افراد کی صلا حیت رکھتی تھی تو بقدر زیادتی ضمان لا زم ہو گی ورنہ پوری ضمان لا زم ہوگی۔

لمافی الھندية:(4/490،رشیدیہ)
استأجر دابة ليحمل عليها شعيرا كيلا معلوما فحمل عليها برا مثل كيله فعليه قيمة الدابة إن هلكت ولا أجر عليه في قولهم جميعا…. بخلاف ما لو استأجرها ليحمل عليها عشرة أقفزة من شعير فحمل عليها أحد عشر قفيزا من شعير حيث يضمن جزءا من أحد عشر جزءا من قيمتها إذا كانت الدابة تقوى على حمل ذلك لأن المحمول من جنس المسمى
وفی المحیط البرھانی : (12 /9،10 ،داراحیاءالتراث العربی )
وإذا استأجر من آجر دابة ليحمل عليها عشرة مخاتيم حنطة، فحمل عليها أحد عشر مختوماً، فعطبت الدابة من ذلك بعدما بلغت المكان المشروط، فعليه الأجر كاملاً ويضمن جزءاً من أحد عشر جزءاً من قيمة الدابة، أما عليه الأجر كاملاً؛ لأنه استوفى المعقود عليه وزيادة، ولم يملك شيئاً من المستأجر، فكان عليه الأجر كملاً…..وأما يضمن جزءاً من أحد عشر جزءاً من قيمة الدابة لأن الدابة بلغت بسبب الثقل وثقل العشرة من ذلك مأذون فيه، وثقل الحادي عشر غير مأذون فيه قالوا: تأويل المسألة من وجهين: أحدهما: إذا كانت الدابة تطيق حمل ما زاد، وكانت تسير مع الحمل، أما إذا كانت لا تطيق، يضمن جميع قيمتها على قياس مسألة تأتي بعد هذا.
وکذافی البحر الرائق : ( 8/24 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانية : (15 / 251 ،فا ر وقیہ )
وکذافی شرح المجلة : (2 /658 ،ر شیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی : (5 /3852 ،ر شیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : (4 / 378 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:1

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔