سوال

جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں نیکی کا کام کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہوگئے تو کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

گناہ صغیرہ وہ ہیں جن کا مرتکب شرعی حد اور سزا کا مستحق نہ ہو، اور اس کے ارتکاب پر قرآن و حدیث میں وعید شدید مذکور نہ ہو اور جو گناہ اتفاقی سرزد ہو گیا اور اس کے ساتھ وہ دل میں خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔
مثلاً: (1)غیر محرم کو بغیر قصد دیکھنا۔(2) کسی مسلمان کی ہجو کرنا اگرچہ اشارۃ کنایۃ ہو اور بات سچی ہو۔(3)بالا خانہ وغیرہ پر بغیر ضرورت چڑھنا جس سے لوگوں کے مکانات سامنے پڑیں۔(4)کسی فاسق کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا۔(5)شراب کو گھر میں رکھنا۔(6)مسجد میں ایسے کام کرنا جو عبادت نہیں۔(7)زکوٰۃ ردی مال سے ادا کرنا۔(8)اکڑ کر اور اترا کر چلناوغیرہ۔(گناہ بے لذت:71،دارالاشاعت)
نیکی کا کام کرنے سے اس طرح کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

لمافی معارف السنن:(1/37،ایچ ایم سعید)

قولہ حتیٰ یخرج نقیاً من الذنوب: اختلفو ا فی ھذہ الذنوب ھل ھی صغائر فقط دون الکبائر او ما یعمھما، فاختارالمتاخرون انھا الصغائر فقط، لان الحسنات یذھبن السیئات
وفی الموسوعہ الفقہیّہ:(34/150،مکتبہ علوم شرعیہ)
” ومن الضوابط المذکورۃ لکبیرۃ:
قول الزیلعی :ما کان حراماً لعینہ
وقول الماوردی :ما اوجبت الحد او توجہ بسببھا الی الفاعل وعید۔
وما نقلہ القاضی ابو یعلیٰ عن الامام احمد بانھا :کل ذنب اوجب اللہ فیہ حداً فی الدنیا او ختمہ بنار فی الآخرۃ۔
وکذا فی فتح الباری:(1/346،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی عمدہ القاری(3/7،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی اوجز المسالک(2/147،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی فتح الملھم(2/285،مکتبہ دار العلوم کراچی)
وکذا فی تحفہ الاحوذی(1/33،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/8/1443-2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:48

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔