سوال

جلسوں کے اشتہار لوگوں کی دیواروں پرلگاناکیساہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگران اشتہارات پرلکھے ہوئے قابل احترام ناموں کی بے حرمتی اوراھانت کاخطرہ نہ ہواوردیواروں کے مالکوں کی اجازت بھی ہو تولگانے کی گنجائش ہے ،ورنہ جائزنہیں۔

لما فی سنن الکبری: ( 6/166 ،العلمیة )
عن ابی حرۃ الرقاشی،عن عمہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:لایحل مال امرئ مسلم الابطیب نفس منہ
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار: (1 /278 ،رشیدیة )
قولہ ولاینبغی الکتابۃ علی جدرانہ)قال فی البحروکذایکرہ کتابۃ الرقاع والصاقھابالابواب لمافیہ من الاھانۃ وفیہ عن النھایۃ لیس بمستحسن کتابۃ القرآن علی المحاریب والجدران لمایخاف من سقوط الکتابۃ وان توطأ
وکذافی التاتارخانیة: (18 / 67 ،فاروقیة ) وکذافی الھندیة: (5 / 323 ،رشیدیة )
وکذافی الدرالمختار: ( 9/ 334 ،رشیدیة ) وکذافی الاشباہ والنظائر: (276 ،رشیدیة )
وکذافی شرح المجلة: (1 /262 ،رشیدیة ) وکذافی البحرالرائق: ( 2/65 ،رشیدیة )
وکذا فی عمدة القاری: (12 /277 ،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:134

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔