سوال

جماعت کے ساتھی بیانوں میں عموما مشہور چار فرشتوں کا حلیہ ،مثلاسر،بازو اور پر وغیرہ بیان کرتے ہیں،اس سے اللہ تعالی کی قدرت اورکاریگری سمجھانا ،مقصود ہوتاہے،آیاان فرشتوں کا حلیہ مستند طریقہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت ہے تو اس کی کچھ تفصیل بیان فرما دیں ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حضرت جبرئیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ ان کے چھ سو بازو ہیں اور ہر بازو اس قدر بڑا ہےکہ مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے،ایک دوسری روایت میں ہے کہ دو بازؤں سے مشرق و مغرب کو ڈھانپ دے ،اور ان کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اس قدر ہے کہ آسمان کے کناروں کو چھپا دے ،اور ان کے کندھوں کے درمیان اس قدر فاصلہ ہے کہ پرندہ سات سو سال اڑتا رہے تو وہ فاصلہ طے کر پائے ۔

لما فی الصحیح للبخاری: (1 /572 ،رحمانیہ)
قال ابو اسحاق الشیبانی :سالت زربن حبیش عن قول اللہ تعالی{فکان قاب قوسین او ادنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی }[النجم:10 ]قال :حدثنا ابن مسعود:انہ صلی اللہ علیہ وسلم رای جبرئیل ،لہ ستمائۃجناح
وکذا فی الصحیح لمسلم: (1 /128 ،رحمانیہ )
وکذافی العظمہ للاصبھانی : ( 2/ 771،779،780،800 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وکذافی شعب الایمان : (3 /335،336 ،دارالکتب العلمیہ)

(2)

حضرت میکائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ بارش کے ہر قطرے پر ،ہر اگنے والے پتے پر اورہر گرنے والے پتے پر مقرر ہیں،اور ان کے بارے میں حضرت حزقیل علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ مخلوق میں ان سے بڑا میں نے نہیں دیکھا اوروہ آسمان کے فرشتوں کے نگران ہیں ۔

لمافی العظمہ للاصبھانی: (3 /811 ،دارالعاصمہ ۔شاملہ )
عن عکرمۃ بن خالد ،ان رجلا قال :یا رسول اللہ ،ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فجاءہ جبریل فقال:یا جبریل:ای الخلق اکرم علی اللہ؟قال:لا ادری، فعرج جبریل ثم ھبط فقال:اکرم الخلق علی اللہ جبریل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت علیھم السلام ، فاما جبریل فصاحب الحرب وصاحب المرسلین ،وامامیکائیل فصاحب کل قطرۃتسقط وکل ورقۃ تنبت وکل ورقۃ تسقط، واما ملک الموت فھو مؤکل بقبض کل روح عبد فی بر او بحر ، واما اسرافیل فامین اللہ بینہ وبینھم.
وکذافیہ : ( 2/605 ،دارالعاصمہ )

(3)

حضرت اسرافیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتاہےکہ عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں ایک وہ بھی ہیں ،ان کے چار بازو ہیں ایک دوسری روایت میں ہے کہ بارہ ہزار بازو ہیں ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ان کے پاؤں زمین کی تہ میں اور سر ساتویں آسمان سے اوپر اور لوح محفوظ ان کی آنکھوں کے درمیان ہے فرشتوں میں سب سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں ،اللہ تعالی نے جو صور پیدا کیا اس کے چار کنارے ہیں ،ایک عرش کے نیچے دوسرا زمین کی تہ میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،اس میں تمام مخلوقات کی روحوں کے بقدر سوراخ ہیں ،صور کے درمیان کی گولائی آسمان وزمین کی گولائی کے بقدر ہے اور اس کا ایک سوراخ ساتوں آسمان اور زمین سے بڑا ہے ،اور حضرت اسرافیل علیہ السلام اس صور کو منہ میں لیے ہوئے اللہ کے حکم کے انتظار میں عرش کی طرف نظر اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی:(3/820 ،دارالعاصمہ۔شاملہ)
“عن عائشۃ رضی اللہ عنھاان کعبا رحمہ اللہ تعالی قال لھا :ھل سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی اسرافیل شیئا؟قالت :نعم ،سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول:لہ اربعۃ اجنحۃ ،منھا جناحان احدھما بالمشرق والآخربالمغرب،واللوح بین عینیہ ،فاذا اراداللہ عز وجل ان یکتب الوحی ینقر بین جبھتہ
وفیہ ایضا:(3/841،دارالعاصمہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فيكون، فكون الصور وهو من لؤلؤة بيضاء في صفاء الزجاجة وله أربع شعب: شعبة تحت العرش، وشعبة في ثراء الثراء، وشعبة في مشرق المشرق، وشعبة في مغرب المغرب، ثم قال للعرش: خذ الصور، فتعلق بالعرش، ثم قال: كن، فكون إسرافيل وهو من أقرب الملائكة إلى الله تبارك وتعالى، فأمره أن يأخذ الصور فأخذه وفيه ثقب بعدد كل روح مبدوة، وكل نفس منفوسة، لا يخرج روحان من ثقب واحد، ولا جسمان يدخلان في ثقب، بل كل ثقب لصغير الصغير الذي لا يعرف، ولخليل الخليل الذي لا يوصف وفي وسط الصور كوة كاستدارة السماء والأرض، وإسرافيل واضع فمه على تلك الكوة، ثم قال له الرب عز وجل: قد وكلتك بالصور فأنت للنفخة والصيحة، فدخل إسرافيل في مقدم العرش فأدخل رجله اليمنى تحت العرش، وقدم اليسرى ولم يطرف مذ خلقه الله عز وجل ينتظر ما يؤمر به [ص:842] والعرش على كاهله، واللوح يقرع جبهته
وکذافی حلیہ الاولیاءللاصفھانی:(6/65،دارالکتب العلمیہ)
وفی العظمہ :(3/842،دارالعاصمہ۔شاملہ)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(14/319،320،داراحیاءتراث)

(4)

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے متعلق روایات میں آتا ہےکہ ان کے چار بڑے بازو ہیں ایک عرش کے نیچے دوسرا تحت الثری میں تیسرا مشرق میں اور چوتھا مغرب میں ،پھرہر بڑے بازو میں ستر ہزار چھوٹے بازو ہیں ،پھر ان چھوٹے بازؤں میں سے ہرایک بازو کے ستر ہزار پر ہیں ،پھر ہر پر کے ستر ہزار کنارے ہیں ،تمام زمین کو ان کے سامنے پلیٹ کی طرح بنا دیا گیا ہے اس میں سے جس کی روح قبض کرنی ہوتو آرام سے کر لیتے ہیں ،ایک اور روایت میں ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ان کے سامنے ہوتی ہے جب کسی کی روح قبض کرنی ہوتی ہےتو ان کو حکم کرتے ہیں کہ فلاں کی روح قبض کر لو ۔ایک اور روایت میں ہے کہ جس رجسٹر میں لوگوں کی زندگی لکھی ہوئی ہے ملک الموت روزانہ تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اسےدیکھتے ہیں ۔

لما فی العظمہ للاصبھانی :(3/890،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن عكرمة رحمه الله تعالى في قوله عز وجل: {وهو الذي يتوفاكم بالليل ويعلم ما جرحتم بالنهار} [الأنعام: 60] قال: «يتوفى الأنفس عند موتها» . قال: ” وما من ليلة إلا والله عز وجل يقبض الأرواح كلها فيسأل كل نفس ما عمل صاحبها من النهار، ثم يدعو بملك الموت عليه السلام، فيقول: اقبض هذا وهذا، وما من يوم إلا وملك الموت ينظر في كتاب حياة الناس قائل يقول ثلاثا وقائل يقول خمسا
وفیہ ایضا:(3/899،دارالعاصمہ۔شاملہ)
عن وهب بن منبه رحمه الله تعالى قال: ثم قال: ” كن فكون عزرائيل عليه السلام، ثم قال: كن فكون كبشا أملح مستترا بسواد وبياض له أربعة أجنحة: جناح تحت العرش، وجناح في ثرى الثرى، وجناح في مشرق المشرق، وجناح في مغرب المغرب، له في كل جناح سبعون ألف جناح، وفي كل جناح سبعون ألف ريشة، في كل ريشة سبعون ألف شعبة
وفیہ ایضا :(3/286،895،دارالعاصمہ۔شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1440-2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:44

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔