الجواب حامداً ومصلیاً
نماز جمعہ کےلیے جلد مسجد میں پہنچنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح، فكأنما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية، فكأنما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة، فكأنما قرب كبشا أقرن، ومن راح في الساعة الرابعة، فكأنما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة، فكأنما قرب بيضة، فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر (صحیح البخاری:1/192،رحمانیہ)
ترجمہ:”جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا( یعنی غسل جنابت کی طرح اچھے طریقے سے غسل کیا) پھر نماز کےلیے چلا تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو شخص دوسری گھڑی میں چلا تو گویا اس نے ایک گائے کی قربانی کی اور جو تیسری گھڑی میں چلا تو گویا ایک سینگوں والا دنبہ قربانی کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلا تو گویا ایک مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو اس نےگویا ایک انڈا اللہ کی راہ میں دیا پھر جب امام خطبہ کےلیے نکل جاتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کےلیے حاضر ہوجاتے ہیں۔“(انعام الباری:4/47،الحراء)
اس حدیث کی تشریح میں محدثین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض محدثین کے ہاں ثواب لکھنے کا یہ عمل سورج طلوع ہونے سے ہی شروع ہوجاتا ہے، لہٰذا طلوع سے لے کر امام کے خطبہ کےلیے منبر پر آنے تک کا جو وقت ہے اس کےپانچ حصے کر لیے جائیں گے۔ پہلے حصہ میں آنے والے لوگ اونٹ کی قربانی کا ثواب پائیں گے۔ دوسرے حصہ میں آنے والے گائے کی قربانی کا،تیسرے میں آنے والے دنبے کی قربانی کا، چوتھے حصے میں آنے والے مرغی کے صدقہ کا اور پانچویں حصہ میں آنے والے انڈا صدقہ کرنے کا اجروثواب پائیں گے۔ مثلاً اگر سورج طلوع ہونے سے لےکر امام کے منبر پر آنے تک کا وقت 5 گھنٹے ہے تو پہلے گھنٹے میں آنے والے اونٹ کی قربانی اوردوسرے گھنٹے میں آنے والے گائے کی قربانی کا ثواب پائیں گے۔ اسی طرح باقی گھنٹوں میں آنے والے اسی کے حساب سے اجر پائیں گے۔
بعض محدثین کے ہاں ثواب لکھنے کا یہ عمل زوال کے بعد شروع ہوتا ہے ، لہٰذا زوال سے لے کر امام کے منبر پر آنے تک کے وقت کے پانچ حصے کرلیے جائیں گے۔ جو وقت کے جس حصہ میں آئے گا اسی حساب سے اجروثواب حاصل کرےگا۔
لما فی جامع الترمذی:(1/225،رحمانیہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة، ثم راح فكأنما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية فكأنما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة فكأنما قرب كبشا أقرن، ومن راح في الساعة الرابعة فكأنما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة فكأنما قرب بيضة، فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر
وفی التعلیق الصبیح:(2/184،رشیدیہ)
فتنقسم اوقات الرواح علی الساعات الخمس فتبین لنا ان المراد من التھجیر التبکیر لتضایق ما بعد الزوال من تلک الساعات
وفی فتح الباری:(2/468،قدیمی)
فقيل أول التبكير طلوع الشمس وقيل طلوع الفجر ورجحه جمع وفيه نظر…وبعض الشافعية عن الإشكال بأن المراد بالساعات الخمس لحظات لطيفة أولها زوال الشمس وآخرها قعود الخطيب على المنبر
وکذافی اوجز المسالک:(2/268،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی حاشیة احمد علی السھارنفوری علی صحیح البخاری:(1/192،رحمانیہ)
وکذافی المرقاة للملا علی قاری رحمہ اللہ:(3/476،المکتبة التجاریة)
وکذافی عمدة القاری:(6/172،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی تقریر بخاری شریف للشیخ زکریارحمہ اللہ:(3/135،مکتبة العلم)
واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:150