الجواب حامداً ومصلیاً
موجودہ جمہوری نظام اگرچہ اسلام دشمن طاقتوں کا مسلط کیا ہوا ہے مگر اسے دور دور سے برا بھلا کہتے رہنا اور اس کی اصلا ح کے لیے اقدام نہ کرنا کوئی عقل مندی نہیں،بلکہ مسلمانوں کا من حیث القوم اس نظام سے بالکل الگ ہو جانا اور اس کی اصلا ح کے لیے تگ ودو نہ کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے،لہذا ایک خالص اسلامی نظام کے قیام کے لیےضروری ہے کہ موجودہ نظام میں شمولیت اختیار کی جائے اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے اسلامی بنیادوں پر لانے کی سعی بلیغ کی جائے اور اس مقصد کے لیے کوشش کرنے والے علماء حق کا ساتھ دیا جائے ،چنانچہ اس سے متعلق اپنے اکابر کی چند عبارات پیش خدمت ہیں۔
فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمودحسن گنگوہی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
” آج کل جمہوریت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر بالغ مرد وعورت خواندہ یا نا خواندہ عاقل کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو اور ان کے ووٹوں کی اکثریت سے سربراہ حکمران تجویز کیا جاتا ہو، اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں ،نہ کوئی سلیم العقل اس کے اندر خیر کا تصور کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اکثر نادانوں اور جاہلوں کی ہے وہ لوگ ایسے ہی شخص کو ووٹ دیں گے جن کے ذریعے ان کی خواہشات پوری ہونے کی توقع ہو اور یقین ہے کہ ان کی خواہشات میں خیر غالب نہیں بلکہ شر غالب ہے تو شر پھیلانے والے کا انتخاب کون سی عقل کی بات ہے۔“ (فتاوی محمودیہ:4/602،ادارة الفاروق کراچی)
شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی مد ظلہ فرماتے ہیں:
”مغربی جمہوریت جس کی بنیاد”عوام کی حکمرانی“ کے تصور پر ہے اسلام کے قطعی خلاف ہے ،کیونکہ اسلام کی بنیاد”اللہ کی حاکمیت اعلی“ کے عقیدے پر ہے جسے قرآن کریم نے”ان الحکم الا للہ” کے مختصر جملے میں ارشاد فرمایاہے،لہذا مغربی جمہوریت کو اپنے تمام تصورات کے ساتھ برحق سمجھنا عہد حاضر کی بد ترین گمراہیوں میں سے ہے اور ایسے لوگوں کو شرعی طو ر پر گمراہ کہا جائے گا اور اگر کوئی شخص اس تفصیل کے ساتھ مغربی جمہوریت کو بر حق سمجھے کہ پارلیمنٹ اگر کوئی قانون قرآن کریم کے کسی صریح حکم کے خلاف نافذ کر دے تو(معاذاللہ)پارلیمنٹ کا قانون ہی بر حق ہو گا تو ایسا اعتقاد کفر ہے،لیکن اگر کوئی شخص پارلیمنٹ کے فیصلوں کوقرآن وسنت کے تابع قرار دے تو اس کو کفر یا گمراہی نہیں کہ سکتے،مگر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ مغربی جمہوریت کو جوں کا توں قبول نہیں کرتا۔“ (فتاوی عثمانی:3/507،معارف القرآن کراچی)
شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی مد ظلہ مزید فرماتے ہیں:
”پہلی غلط فہمی تو سیدھے سادھےلوگوں میں اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کا منشاء اتنا برا نہیں ،لیکن نتائج بہت برے ہیں۔وہ غلط فہمی یہ ہے کہ آج کی سیاست مکروفریب کا دوسرا نام بن چکی ہے اس لیے شریف آدمیوں کو نہ سیاست میں کوئی حصہ لینا چاہیے نہ الیکشن میں کھڑا ہونا چاہیے اور نہ ووٹ ڈالنے کے خرخشے میں پڑنا چاہیے۔
یہ غلط فہمی خواہ کتنی نیک نیتی کےساتھ پیدا ہوئی ہو، لیکن بہر حال غلط ہےاور ملک و ملت کے لیے سخت مضر ہے۔ ماضی میں ہماری سیاست بلا شبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے،لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اسے پاک کرنےکے لیے آگے نہیں بڑھیں گے اس گندگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا اور پھر ایک نہ ایک دن یہ نجاست خود ان کے گھروں تک پہنچ کر رہے گی ،لہذا عقل مندی اور شرافت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ سیاست کی اس گندگی کو دور دور سے برا کہا جاتا رہے،بلکہ عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو ان لوگوں کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی جائے جو مسلسل اس کو گندا کر رہے ہیں. . . . یوں بھی سوچنے کی بات ہے کہ شریف دیندار اور معتدل مزاج کے لوگ انتخابات کے تمام معاملات سے بالکل یکسو ہو کر بیٹھ جائیں تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ پورا میدان شریروں ،فتنہ پردازوں اور بے دین افراد کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں کبھی بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ حکومت نیک اور اہلیت رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں آئے۔اگر دین دار لوگ سیاست سے اتنے بے تعلق ہو کر رہ جائیں تو پھر انہیں ملک کی دینی اور اخلاقی تباہی کا شکوہ کرنے کا کوئی بھی حق نہیں پہنچتا۔ “ (فقہی مقالات:2/288،290،میمن اسلامک پبلشرز)
ان مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے موجودہ جمہوری سیاست میں حصہ لینا اور اس مقصد کے لیے جدوجہد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:1