سوال

جنبی آدمی کامسجدمیں جاناکیسایاتشبہ بالمصلی اختیارکرناکیساہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جنبی آدمی کامسجدمیں جاناحرام ہے،تشبہ بالمصلی کاحکم توفاقدالطہورین(جوپانی اورمٹی کے استعمال پرقادرنہ ہو)کے لئے ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد: (1 /42 ،رحمانیة )
عن جسرۃ بنت دجاجۃ قالت سمعت عائشۃ تقول جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ووجوہ بیوت اصحابہ شارعۃ فی المسجد فقال وجھواھذہ البیوت عن المسجد ثم دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یضع للقوم شیئارجاء ان تنزل فیھم رخصۃ فخرج الیھم فقال وجھوا ھذہ البیوت عن المسجد فانی لااحل المسجد لحائض ولاجنب
وفی الھندیة: (1 /38 ،رشیدیة )
انہ یحرم علیھاوعلی الجنب الدخول فی المسجد سواء کان للجلوس اوللعبور
وکذافی الھدایة: (1 /63 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /607 ،رشیدیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (1 /235 ،داراحیاء )
وکذافی تنویرالابصار مع الدر: (1 /472 ،رشیدیة )
وکذافی فتاوی الولوالجیة: (1 /53 ،بیروت )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 175 ، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/5/12/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:106

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔