الجواب حامداً ومصلیاً
حائضہ لڑکی کا مدرسے میں پڑھنے اور پڑھانے کی غرض سے جانا جائز ہے٬لیکن قرآن مجید بقصد تلاوت پڑھنا اور قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے٬ہاں پڑھنے پڑھانے کی غرض سے ایک٬ایک کلمہ کر کے پڑھنا جائز ہے۔
لما فی تنویرالابصار مع الردالمختار : ( 1/ 535،رشیدیہ )
قولہ:(وقراءۃقرآن)ای: ولو دون آیۃ من المرکبات لاالمفردات،لأنہ جوّز للحائض المعلمۃ تعلیمہ کلمۃ،کلمۃ کماقدمناہ وکالقرآن والتوراۃوالانجیل والزبور کما قدمہ المصنف․ قولہ)بقصدہ)فلو قرأت الفاتحۃعلی وجہ الدعاء أوشیئامن الآیات التی فیھا معنی الدعاء ولم تردالقرأۃ لابأس بہ
وفی المحیط البرھانی : ( 1/ 403، دار احیاء)
واذاحاضت المعلۃ٬فینبغی لھا أتعلم الصبیان کلمۃ٬کلمۃوتقطع بین الکلمتین علی قول الکرخی٬وعلی قول الطحاوی تعلم نصف آیۃ وتقطع٬ثمتعلم نصف آیۃ٬ولا یکرہ لھا التہجی بالقرآنوکذا لا یکرہ لھا قراءۃدعاءالقنوت اللھم انا نستعینک
وکذافی التاتارخانیہ: ( 1/ 480 ، فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ: (1 / 38، رشیدیہ)
وکذا فی النھر الرائق: (1/ 132، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1/ 120،طارق)
وکذا فی البنایہ: (1 / 643، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: (1 / 171، رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 163، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط: (3 / 102،دارالمعرفہ)
واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ حفظہ اللہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24 /10/ 2022/27/3 /1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:61