سوال

حالت سفر میں اگر کسی شخص کی چار رکعت والی نماز رہ جائے تو اپنے مقام پر اس کی قضاء کرتے ہوئے قصر کرے گایااتمام؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

قصر کرے۔

لما فی بزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/17،رشیدیہ)
“صلی الظھر اربعا وخرج من وقتہ الی السفر فصلی عصر الیوم رکعتین ثم عادالی المصر وعلم انہ صلی ھما بلاوضوء اعاد الظھر رکعتین والعصر اربعالان التعدد باخرالوقت وقد کان فی الظھر مسافر وفی العصر مقیما.”
وفی المختصر القدوری:(36،الخلیل)
“من فاتتہ صلوۃ فی السفر قضاھافی الحضررکعتین.”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1370،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1 /214،الطارق)
وکذا فی المبسوط:(1/238،دارالمعرفہ)
وکذافی البحر الرئق:(2/240،رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔