سوال

حامد کی سعدیہ سے شادی طے پائی ہے لیکن حامد نے سعدیہ کی نانی کا دودھ پیا ہے مدت رضاعت میں تو کیا ان دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ان دونوں کا نکاح جائز نہیں ہے۔

لما فی الهدایہ:( 2/74،بشری)
لم یجز لأحدھماأنیتزوج بالاخری ھذا ھوالأصل لأن امھما واحدۃفھما أخ وأخت ولا یتزوج المرضعۃ أحدا من ولد التی أضعت لأنہ أخوھا ولا ولد ولدھا لأنہ ولد أخیھا
وکذافی كتاب الفقہ:(204/3، حقانیہ)
فاذا رضع الطفل الأجنی من امرأۃ كانت أمہ فیحرم علیہ أن یتزوج کما یحرم علیہ أن یتزوج بنتھا أو بنت بنتھا وإن نزلت لأنھا أختہ وبنت أختہ
وكذافي البزازیہ:(1 /416،رشیدیہ)
وكذا في الفقہ الحنفي: (2 /156 ،طارق )
وکذا في مجمع الانھر: (1 /554،المنار)
وكذا في الفتاوی التاتارخانیہ: (362/4، فاروقیہ)
وكذا في تكملة فتح الملہم : (1 /14 ، دارالعلوم )
وكذا في كنز الدقائق مع البحرار الرائق: (3/397، شیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(399/4،رشیدیہ)
وكذافي المبسوط:(30/ 294، دار المعرفتہ بیروت لبنان)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/11/2022/19/4/1444

جلد نمبر:28 فتوی نمبر:49

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔