الجواب حامداً ومصلیاً
(1)
موجودہ پر فتن دور میں عورتوں کا جنازہ میں باقاعدہ شریک ہونا درست نہیں البتہ اگر مکمل پردے میں رہتے ہوئے کبھی کوئی صورت پیدا ہو جائے جیسے حرمین میں ہوتا ہے تو شرکت کی اجازت ہو گی (2) اس مسئلہ میں فقہاءِ کرام کا اختلاف ہے ا کثر فقہاء عورتوں کو قبرستان جانے سے مطلقا منع کرتے ہیں جبکہ بعض اس کی اجازت بھی دیتے ہیں۔
ہماری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ عورتوں کو مطلقا تو جانے کی اجازت نہیں البتہ کبھی کبھار محرم کے ساتھ یا ایک دو عورتیں مل کر کسی محرم یا قریبی رشتہ دار کی زیارت کے لئے جائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہو تی ہے ،اس میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ عورتیں گروہ بنا کر ،ٹولیوں کی شکل میں نہ جائیں۔
لما فی الھندیة:(1/162،رشیدیة)
ولا ينبغي للنساء أن يخرجن في الجنازة وإذا كان مع الجنازة نائحة أو صائحة زجرت فإن لم تنزجر فلا بأس بأن يمشي معها؛ لأن اتباع الجنازة سنة فلا يتركه لبدعة من غيره ولا يقوم للجنازة إلا أن يريد أن يشهدها
وفیہ ایضا:(5/350، رشیدیة)
واختلف المشايخ رحمهم الله تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه الله تعالى – الأصح أنه لا بأس بها
وکذافی البحر الرائق:(2/342، رشیدیة)
قال في البدائع، ولا بأس بزيارة القبور …..وقيل تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما
وکذا فی اعلاء السنن:(8/348،ادارة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/45،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/348،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1570، رشیدیة)
وکذا فی رد المحتار:(2/242،سعید)
وکذا فی الولوالجیة:(1/167،الحرمین)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(24/88،علومِ اسلامیة)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2020/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:163