الجواب حامداً ومصلیاً
شمائل ترمذی (ص 203،ادارہ نشریات اسلام)میں اس کا مطلب یہ لکھا ہے
”البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے نہ تعریف فرماتے، مذمت نہ فرمانا تو ظاہر ہے کہ حق تعالی شانہ کی نعمت ہے، زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لیے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے البتہ اظہار رغبت یا کسی کی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے۔
لمافی تحفة الاحوذی :(10/523،قدیمی )
” يعظم النعمة وان دقت ،لا يذم منھا شیئا غیر انہ لم یکن یذم ذواقا ولا یمدحہ . “
وکذا فی دلیل الفا لحین : (3 /200 ،دارالحدیث )
وکذافی ھا مش علی التر مذی : (2 / 38 ،رحمانیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11-5-2019،1440،9،5
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:53