سوال

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل و مکارم اخلاق کے تذکرے میں متعدد کتابوں میں جہاں آپ صلی اللہ وسلم کے کھانوں کا ذکر ہے وہاں عموما یہ جملہ ملتا ہے “ولَمْ يَكُنْ يَذُمُّ ذَوَاقا۔ َمَا يُطْعِمُ۔ وَلَا يَمْدَحُہُ”جس كا مطلب بظا ہر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو ذائقو ں کی مذ مت کر تے تھے اور نہ ہی تعریف کر تے تھے ۔اب سوال یہ ہےکہ بعض اوقات کسی پکا نے والے کی تعریف نا گزیر ہو تی۔ اور ظاہری بات ہے کہ جب اس کی تعریف کرنی ہو تو کھانے کی بھی تعریف کرنی پڑے گی تو کیا یہ تعریف کرنا اور جس خصلت کا ذکر ہے اس میں تعارض ہے۔ اور اس جملہ ” لَمْ يَكُنْ يَذُمُّ ذَوَاقا وَلَا يَمْدَحُہُ ” کا صحیح مطلب بھی واضح فر مادیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

شمائل ترمذی (ص 203،ادارہ نشریات اسلام)میں اس کا مطلب یہ لکھا ہے
”البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے نہ تعریف فرماتے، مذمت نہ فرمانا تو ظاہر ہے کہ حق تعالی شانہ کی نعمت ہے، زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لیے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے البتہ اظہار رغبت یا کسی کی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے۔

لمافی تحفة الاحوذی :(10/523،قدیمی )
” يعظم النعمة وان دقت ،لا يذم منھا شیئا غیر انہ لم یکن یذم ذواقا ولا یمدحہ . “
وکذا فی دلیل الفا لحین : (3 /200 ،دارالحدیث )
وکذافی ھا مش علی التر مذی : (2 / 38 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11-5-2019،1440،9،5
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:53

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔