الجواب حامداً ومصلیاً
اگر آدمی ضرورت مند ہو ،کہیں اور سے سود کی شرط کے بغير قرض ملنے کی امید بھی نہ ہواور قرض دار کو سود کی مدت سے پہلے پہلے قرض ادا کرنے کا پورا یقین ہو تو اس کے لیے ایسا قرض لینے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں۔
لما فی الفقہ البیوع : ( 1/462، معارف القرآن)
حکم التعاقد مع مصدر البطاقۃ فی حین ان العقد یصرح بان حامل البطاقۃ ان لم یسدد الفاتورۃ خلال فترۃ السماح التی ھی شھر عادۃ فان المصدر یتقاضی علیہ زیادۃ فان مثل ھذا الاشتراط محرم شرعا لکونہ ربا، ولکن یمکن لحامل البطاقۃ التحرز منہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالمجو ان حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذا العقد ان شاء اللہ تعالی بعد اخذ الجمیع الاحتیاط اللازمۃ لان لا یلجاء الی دفع الفائدۃ الربویۃ
وکذافی تنویر الابصار: ( 5/165،سعید کراچی )
وکذا فی الموسوعةالفقهيه: (33 /130،علوم الاسلاميه )
وکذا فی الفقه الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 4/ 220،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق : (6/ 208، رشیدیہ )
وکذا فی منحةالخالق :(6/208،رشیدیہ )
وکذا فی البناية:( 7/338،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3698،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4/400،رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہراقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-2-2019،18-6-1440
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:174