سوال

خاتون کاشوہرغیرمحرم عورتوں سےناجائزتعلقات رکھتاہےیہاں تک کہ گھرمیں بھی ان عورتوں کوبلالیتا ہے۔اپنی بیوی کوخرچ نہیں دیتا،بچوں کومعمولی خرچ کبھی کبھی دیتا ہے۔اس کی بیوی گھریلو اخراجات اپنی سلائی مشین سےچلاتی ہے،یہ عورت طلاق کامطالبہ کرتی ہےتوطلاق بھی نہیں دیتا،کیا اس کی بیوی عدالت سےطلاق لےسکتی ہے؟یاکہ وہ اس ظلم کی چکی میں پستی رہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

سوال میں ذکرکردہ صورت حقیقت کےمطابق ہےتوعورت عدالت سےطلاق لےسکتی ہےبشرطیکہ عدالت شرعی طریقہ کےمطابق طلاق دے۔

لمافی المحیط البرھانی:(4/242،داراحیاءالتراث العربی)
“وقال محمد:وللمراۃ الخیارفی الجنون والجذام وکل عیب لایمکنہ القیام معہ الابضرر،اَلا تری انہ ثبت لھاالخیار فی الجب والعنۃوانمایثبت دفعاللضررعنھا۔”
وفی بحوث فی قضایافقھیةمعاصرة:(2/253،دارالعلوم)
فلایجوزللمراۃان تطلق نفسھا،اوتفسخ نکاحھامن زوجھافی الاحوال العادیۃ،ولکن ھناک احوالاً یجوزلھافیھاان ترفع امرھاالی قاض شرعی،فیفسخ ھونکاحھامن زوجھابولایۃالعامۃ،وذلک لاسباب معروفۃ،علی اختلاف الفقہاء فیھا،مثل ان یکون الزوج مفقوداً،اوعنینا،اومتعنتاًلاینفق علی زوجتہ اویلحق بھاضرراً لایتحمل
وکذافی مجمع الانھر(فی الدرالمنتقی ):(2/141،المنار) وکذافی التاتارخانیة:(4/325،فاروقیہ)
وکذافی کتاب المبسوط:(5/97،دارالمعرفہ) وکذافی الھندیة:(1/526،الرشیدیہ)
وکذافی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/413،الرشیدیة) وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/6،علوم اسلامیہ)
وکذافیالموسوعةالفقھیة :(29/69،علوم اسلامیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(2/632،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/213،رشیدیہ) وکذافی البحرالرائق:(3/414،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/25،امدادیہ ملتان)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/1443/2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:93

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔