الجواب حامداًومصلیاً
(1)
سونے اور چاندی کی ادھار خرید وفروخت کرنسی کے بدلے جائز ہے ۔
(2)
مرد کے لیے ایسی انگوٹھی پہننا جس میں سونے کی ملاوٹ ہو جائز نہیں۔
لمافی المبسوط:(14/24،دارالمعرفہ)
واذا اشتری الرجل فلوسا بدراھم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز لان الفلوس الرائحۃ ثمن کالنقود وقد بینا ان حکم العقد فی الثمن وجوبھا ووجودھا معاً ولا یشترط قیامھا فی ملک بائعھا لصحۃ العقد کما لایشترط ذلک فی الدراھم والدنانیر
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/126،فاروقیہ)
وفی الجامع الصغیر لا یتختم الا بالفضۃ ھذا اللفظ بظاہرہ یقتضی ان التختم بالذھب والحدید والصفر والحجر والشبہ وما اشبہ ذلک حرم علی الرجال ۔۔۔۔لا بأس بمسمار الذھب یجعل فی الفص یرید بہ المسمار لیحفظ بہ الفص
وکذافی فتح القدیر:(7/147،رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/177،التجاریة)
وکذافی الشامیة:(7/433،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیہ:(3/242،رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(5/5،رشیدیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/128،دارالعلوم)
وکذافی الھندیہ:(5/335،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14،9،1443/2022،4،16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:140