الجواب باسم ملہم الصواب
مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات
نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 140برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 42 حصے (٪30)بھائی حامد کو ، 42 حصے (٪30)بھائی خالد کو ، 35حصے (٪25) بیوہ کو اور 21حصے (٪15)بہن کو دیے جائیں گے ۔
بھائی طاہر ، جن کا 2004میں انتقال ہوا ہے وہ یا ان کی اولاد اس وراثت کی حق دار نہیں ۔
اور مرحوم امجدکے ترکہ میں سے فقیر حسین (مرحوم)کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء کو دے کر مسئلہ بالا تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور ایک کنا ل کے گھر میں سے دونوں بھائیوں میں سےہر بھائی کو 6مرلے، بیوی کو 5 مرلے اور بہن کو 3 مرلے ملیں گے۔
ساڑھے تین(3.5)ایکڑ زمین میں سے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 8کنال 8مرلے ، بیوی کو 7کنال جبکہ بہن کو 4کنال 4مرلے ملیں گے ۔
اور مذکورہ مشترک پلاٹ (4مرلے)میں سے ہر بھائی کو 1.2مرلے ، بیوی کو 1 مرلہ اور بہن کو 0.6 مرلہ ملیں گے۔
اسی طرح دکان میں مرحوم کے حصہ (2سرسائی یا اس کی قیمت) کو اوپر ذکر کردہ فیصدی حصہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے ۔الجواب باسم ملہم الصواب
مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات
نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 140برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 42 حصے (٪30)بھائی حامد کو ، 42 حصے (٪30)بھائی خالد کو ، 35حصے (٪25) بیوہ کو اور 21حصے (٪15)بہن کو دیے جائیں گے ۔
بھائی طاہر ، جن کا 2004میں انتقال ہوا ہے وہ یا ان کی اولاد اس وراثت کی حق دار نہیں ۔
اور مرحوم امجدکے ترکہ میں سے فقیر حسین (مرحوم)کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء کو دے کر مسئلہ بالا تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور ایک کنا ل کے گھر میں سے دونوں بھائیوں میں سےہر بھائی کو 6مرلے، بیوی کو 5 مرلے اور بہن کو 3 مرلے ملیں گے۔
ساڑھے تین(3.5)ایکڑ زمین میں سے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 8کنال 8مرلے ، بیوی کو 7کنال جبکہ بہن کو 4کنال 4مرلے ملیں گے ۔
اور مذکورہ مشترک پلاٹ (4مرلے)میں سے ہر بھائی کو 1.2مرلے ، بیوی کو 1 مرلہ اور بہن کو 0.6 مرلہ ملیں گے۔
اسی طرح دکان میں مرحوم کے حصہ (2سرسائی یا اس کی قیمت) کو اوپر ذکر کردہ فیصدی حصہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے ۔
نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ
28 کنال 4مرلے دکان مکان1کنال
1 بھائی 42 ٪30 8کنال8مرلے 1.2مرلہ ٪30 6مرلے
2 بھائی 42 ٪30 8کنال8مرلے 1.2مرلہ ٪30 6مرلے
3 بیوی 35 ٪25 7کنال 1مرلہ ٪25 5مرلے
4 بہن 21 ٪15 4کنال4مرلے 0.6مرلہ ٪15 3مرلے
میزان 4 140 ٪100 28کنال 4مرلے ٪100 20مرلے
2) ہرمسلمان کو شریعت کے مطابق ترکہ کی تقسیم پر راضی ہونا چاہے ۔کسی وارث کا اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ درست نہیں ۔ایسے وارث کو آپس میں سمجھا بجھا کر یا بااثر افراد کے ذریعے معاملے کو حل کرلیا جائے ۔کچھ دے دلا کر صلح بھی کی جا سکتی ہے ،ورنہ باقی ورثاء قانونی چارہ جوئی کا حق بھی رکھتے ہیں ۔3)متبنی پر لازم ہے کہ شرعی ورثاء کو ان کا حصہ دے دےاور جائیداد ان کے نام ٹرانسفر کر دے۔ شرعی طور پر اس کام کے لیے نام تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ، لیکن متبنی کا اپنے والد کی جگہ کسی اور کانام لکھنا سخت گناہ ہے ،اسے جلد از جلد تبدیل کرالے۔
لما فی التنویر وشرحہ مع رد المحتار :(10/ 550و552،دار المعرفہ)
“ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم)”
وبعد صفحتین:
“فقال :(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن)”
وفی تفسیر الطبری:(10/ 75الجزء21،ط:دار المعرفہ)
“قوله: (وَما جَعَلَ أدعِياءَكُمْ أبْناءَكُمْ) يقول: ولم يجعل الله من ادّعيت أنه ابنك، وهو ابن غيرك ابنك بدعواك.”
وکذا فی تسہیل السراجی:(65،السعید)
وکذا فی روح المعانی):21/146،دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی الشامیہ:(12/272،دار المعرفہ)
وکذا فی سنن الترمذی:(1/383،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی(7/205،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7248،رشیدیہ)
وکذا فی مشکاۃ المصابیح :(1/259،رحمانیہ)
وکذا فی الترغیب و الترھیب:(1/42، دار احیاء التراث العربی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:68