سوال

دریا سے جو مچھلی حاصل کی جاتی ہے اس پر عشر لازم ہوگا یا زکوۃاور مچھلی کے فارم والے شخص پر عشر ہو گا یا نصف عشر؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

جو مچھلی دریا سےحاصل کی جاتی ہےاس پر نہ زکوۃ لازم ہے اور نہ عشر۔(2)فارم والا شخص اگر صاحب نصاب ہے تو اس پر زکوۃ لازم ہو گی ورنہ نہیں۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/520،حقانیہ)
ولا شئ فیما یستخرج من البحر کالعنبر واللؤلؤوالمرجان و السمک ونحو ذالک الا اذا اعدہ للتجارۃ
وفی المبسوط للسرخسی:(2/211،دارالمعرفہ)
لیس فی السمک واللؤلؤ والعنبر یستخرج من البحر شئ
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/316،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/163،33،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی البنایہ:(3/486،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/412،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع ھامشہ:(2/322،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی فتح القدیر:(2/246،225،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عر فات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 49

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔