الجواب حامداً ومصلیاً
کسی صحیح غرض مثلا اعلانِ نکاح وافطاروسحروغیرہ کے لیےسادہ طریقے سےدف اور طبل کا استعمال کیا جائے تو وہ جائز ہے،لیکن دف بجانے میں ایسی صورت حال نہ پیدا کی جائے کہ دیکھنے والےاسے موسیقی کی محفل سمجھیں یا پھر مردوزن کا مخلوط اجتماع ہو جائے لھٰذا ایسی صورت کی شریعت میں قطعا اجازت نہیں۔
لما فی رد المحتار:(6/55،سعید)
واذا کان الطبل لغیر اللھوفلاباس بہ کطبل الغزاۃ والعرس لما فی الاجناس ولا باس ان یکون لیلۃالعرس دف یضرب بہ لیعلن بہ النکاح وفی الولوالجیہ وان کان للغزو او القافلۃ یجوز اتقانی ملخصا (قولہ یباح) کذا فی المحیط
وفی الہندیہ:(5/،253،رشیدیہ)
وسئل ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ عن الدف اتکرہہ فی غیرالعرس بان تضرب المراۃ فی غیر فسق للصبی قال لا اکرہہ واماالذی یجیئ منہ اللعب الفاحش للغناءفانی اکرہہ کذافی محیط السرخسی
وفی المحیط البرہانی،(8/76بیروت)
الاتری انہ لا باس بضرب الدف فی الاعراس والولیمۃ، وان کان ذالک نوع لہو،وانما لم یکن بہ باس لان فیہ اظہار النکاح واعلانہ وبہ امرنا صاحب الشریعۃ حیث قال : اعلنواالنکاح ولو بالدف
ایضاً
وحدیث البراءبن مالک رضی اللہ عنہ محمول علی انہ کان ینشد الشعر المباح یعنی بہ الشعرالذی کان فیہ الوعظ والحکمۃ
وکذا فی الھندیہ:(1/351-352،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/347،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:11