سوال

راکھ کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے ۔

لما فی الموسوعة:(23/123،علومِ اسلامیة)
وعلى ذلك فالرماد الطاھر مال متقوم یصح بیعہ وشراؤہ عند الفقھاء، لأنہ مما یباح الانتفاع بہ شرعا
وکذا فی التاتارخانیة:(8/338،فاروقیة)
والصحیح أنہ یجوز بیع کل شئ ینتفع بہ
وکذافی الفقہ الاسلا می وادلتہ:(5/3320،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(3/3،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(12/123 ،دار المعرفة)
وکذا فی مجع الانھر:(3/5،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(3/336،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(5/433،رشیدیة)
وکذا فی رد المحتار:(4/505،سعید)
وکذا فی البحوث (1/87،المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:10

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔