سوال

رضاعی بہن ،بھائی کا نکاح ہوا ، جب تین ماہ کا حمل ہوا ،اس وقت پتہ چلا کہ بہن بھائی ہیں، اب اس نکاح کا اور حمل کاکیا حکم ہے؟ اور کیا حمل ولدالنسب ہوگا؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

یہ نکاح فاسدہےاور نکاح فاسد سے ہونےوالا حمل ثابت النسب ہو گا اوراس کا نسب باپ سے ثابت ہو گا۔

لمافی البحر الرائق:(3 /297 ،رشیدیہ)
وفی النکاح الفاسد انما یجب مھر المثل بالوطء ولم یزد علی المسمی ویثبت النسب )ای نسب المولود فی النکاح الفاسد لان النسب مما یحتاط فی اثباتہ احیاء للولد فیترتب علی الثابت من وجہ اطلقہ فافاد انہ یثبت بغیر دعوۃ۔
وفی المحیط البرھانی:(4/168،علوم اسلامیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحا فاسدا، وجاءت بولد الی ستۃ اشھر ثبت النسب،والنکاح الفاسد بعد الدخول فی حق النسب بمنزلۃ النکاح الصحیح۔
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة :(1/371،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/144،دار المعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7176،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع :(3/304،رشیدیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(388،ایچ ایم سعید)
وکذافی الشامیة :(4/407،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1443،2021/11/17
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:116

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔