سوال

رضاعی بہن بھائی نے شادی کر لی ،ان کےہاں اولاد بھی پیداہوگئی۔اب ان کو مسئلے کا علم ہوا،اس نکاح اور اولاد کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ان دونوں کا نکاح صحیح نہیں تھا،اب یہ فوراًجدا ہو جائیں ۔ان کی اولاد کا نسب ثابت ہو گااور اولاد صرف ماں اور اس کے رشتہ داروں کی وارث بنے گی نہ کہ باپ کی۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/168،دار احیاءتراث العربی)
ثبت النسب والنکاح الفاسدبعدالدخول فی حق النسب بمنزلۃالنکاح الصحیح
وفی العالمکیریة:(1/371،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃنکاحا فاسدا فدخل بھا فجاءت بولد لستۃاشھر ثبت النسب منہ
وکذا فی المسلم:(1/537،رحمانیہ)
وکذافی الشامیة:(3/552،ایچ،ایم سعید کمپنی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/97حقانیہ،)
وکذا فی التاتارخانیة:(4/264،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی:(2/240،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/495،منار)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/89،الطارق)
وکذا فی البدائع الصنائع:(3/396،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات عفی عنہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/5/1442/2021/1/6
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 144

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔