سوال

رمضان شریف میں ہم وتروں میں جہری قرأت کرتے ہیں،اسی طرح رمضان کے علاوہ بھی وتروں میں جہری قرأت کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

رمضان کے علاوہ وتروں میں سراً قرأت ضروری ہے،جہری قرأت نہیں کر سکتے۔

لما فی البحر الرائق:(1/527،رشیدیہ)
وأما الجھر فی الصلاۃ والجھریۃ فواجب علی الإمام فقط وھو افضل فی حق المنفرد وھی صلاۃ الصبح والرکعتان الأولیان من المغرب والعشاء وصلاۃ العیدین والتراویح والوتر فی رمضان
وفی الموسوعة الفقھیة:(27/298،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ:یجھر فی والوترإن کان اماما فی رمضان لافی غیرہ
وکذافی الشامیہ: (3 /313 ،سعید)
وکذافی غنیة المتملی:(296/رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /72 ،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/151،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/41،بیروت)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/156،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:139

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔