الجواب حامداً ومصلیاً
جب روح نکل جائےتو سنت کام صرف اتنا ہے کہ میت کی آنکھیں بند کر دی جائیں،اس سے آگے فقہاء نے آداب ذکر کیے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ منہ قبلہ کی طرف کر دیں اورایک چوڑی پٹی لیکر میت کی ٹھوڑی کے نیچے سے گزار کر سر پر لاکرگرہ لگادیں،اوربازو کو کندے سے ،پنڈلی کو ران سے،اور ران کو پیٹ سے ایک مرتبہ ملاکر نرمی سے واپس اپنی جگہ لوٹادیں،اسی طرح ہاتھ کی انگلیوں کو بند کر کے پھر کھلی چھوڑ دیں۔ اور پیٹ پر معمولی وزنی چیز رکھ دیں تاکہ پیٹ نہ پھولے اور دایاں ہاتھ دائیں پہلو میں اور بایاں ہاتھ بائیں پہلو میں رکھ دیں ۔
لما فی الصحیح لمسلم : (1/ 300، قدیمی)
” عن ام سلمۃ رضی اللہ تعالی عنھا قالت دخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ابی سلمۃوقد شق بصرہ فاغمضہ . “
وفی الموسوعة الفقھیة: (39 /414 ،علوم اسلامیة)
” اتفق الفقھاءعلی استحباب شد لحی المیت بعصابۃ عریضۃ تربط فوق راسہ—وکذا اتفق الفقھاءعلی استحباب تلین مفاصل المیت ،وذالک برد ساعدہ الی عضدہوساقہ الی فخذہ وفخذہ الی بطنہ ،ثم تمد وتلین اصابعہ بان ترد الی بطن کفہ ثم تمد —اتفق الفقھاءعلی استحباب توجیہ المیت الی القبلۃ لانھا اشرف الجھات ،ولکن اختلفوافی طریقۃ توجیہ المیت الی القبلۃعلی اقوال فذھب الحنفیۃالی انہ یسن ان یوجہ المحتضرللقبلۃ علی یمینہ مثل توجیہ فی القبر. “
وفی تنویرالابصار: (2 /193 ،سعید )
“(واذا مات تشدد لحیاہ وتغمض عیناہ)—ثم تمد اعضاءہ ویوضع علی بطنہ سیف او حدید لئلا ینتفخ. “
وکذا فی البنایة: (3 /209 رشیدیہ، )
وکذا فی الموسوعةالفقھیة: (39 /412 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی المراقی الفلاح: (1 /563 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (2 /193 ،سعید )
وکذا وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 /480 ،رشیدیہ )
فی البحر الرائق : (2 /300 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار: (1 /365 ،رشیدیہ )
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ: (1 /52 ،قدیمی )
وکذافی الھدایة : (1 /189 ،المیزان )
واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلدنمبر :18 فتوی :29