سوال

زاہدہ کا انتقال ہوا اس نے ورثاء میں شوہر (صادق) ،بیٹی (ساجدہ)اور ماں (عابدہ )چھوڑیں ۔زاہدہ کا ترکہ 2ایکڑزمین اور نقدی3لاکھ ہے ۔ابھی ترکہ تقسیم نہ ہوا تھا کہ اس کے شوہر (صادق) کا انتقال ہوگیا جس کے ورثاء میں تین بیٹیاں (حامدہ ، ذاکرہ،خاشعہ )اورساس (عابدہ ) ہیں ۔ اب ان میں میراث کی تقسیم کیسے ہوگی ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحومہ کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ 3)اس کے بعد مرحومہ نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحومہ زاہدہ کے ترکہ کے 48 برابر حصے کرکے ، ساجدہ کو 27 حصے(٪56.25)،عابدہ کو9حصے (٪18.75)،حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 4حصے (٪8.333) دیے جائیں گے ۔
سوال میں مذکور زمین میں سے ساجدہ کو 9کنال، عابدہ کو3کنال ، حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 1.33کنال دی جائیں گی۔نقدی میں سے ساجدہ کو168750روپے، عابدہ کو56250روپے، حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 25000روپے دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن الکریم:(النساء:11،12)
فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی الھندیة :(6/448، رشیدیة)
وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان
وفیہ ایضا:(6/450،رشیدیہ)
وأما الربع ففرض صنفين فرض الزوج إذا كان للميت ولد أو ولد ابن
وفیہ ایضا:(6/451،رشیدیہ)
وأما السدس ففرض سبعة أصناف: فرض الأب إذا كان للميت ولد أو ولد ابن، وفرض الجد كذلك عند عدم الأب، وفرض الأم إذا كان للميت ولد أو ولد ابن أو اثنان من الإخوة والأخوات
وکذا فی المبسوط:(29/139،144،148دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/288،292،302داراحیاء)
وکذافی التاتارخانیة:(20/230،224،262فاروقیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7769،7774،7787رشیدیة)
وفی تنویرالابصار مع شرحہ:(6/772،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:146

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔