سوال

زوجین نے ایک دوسرے کو جو تحفے، تحائف دیے ہوئے تھے ،علیحدگی کے بعد ان کے شرعا واپس لینے یا نہ لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

نکاح کے بعد جو تحائف دیے، اب علیحدگی کے بعد ان کو واپس لینا جائز نہیں۔

لمافی سنن ابی داود:(2 /143 ،رحمانیہ)
عن ابن عمر وابن عباس عن النبی ﷺ قال لا یحل لرجل ان یعطی عطیۃ او یھب ھبۃ فیرجع فیھا الا الوالد فیما یعطی ولدہ و مثل الذی یعطی العطیۃثم یرجع فیھا کمثل الکلب یاکل فاذا شبع قاء ثم عاد فی قیئہ
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة :(3/273،رشیدیہ)
” اذا وھب احد الزوجین لصاحبہ لا یرجع فی الھبۃ وان انقطع النکاح بینھما.”
وفی المحیط البرھانی :(9/188،علوم اسلامیہ)
“وھب لامراۃ ،ثم تزوجھا ، فلہ ان یرجعھا فیھا ولو وھب لامراتہ ھبۃ ثم ابانھا فلیس لہ ان یرجع فیھا.”
وکذافی بدائع الصنائع :(5/192،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(4/386،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(8/596،دارالمعرفہ)
وکذافی السراجیہ :(407،زمزم)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(14/485،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1443،2021/12/7
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:1

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔