الجواب حامداً ومصلیا
ان دونوں کو سرکاری ریکارڈ کے مطابق اپنے اپنے قبضے کو درست کرنا چاہیےیا پھر ایک دوسرے کو زائد حصہ ہبہ کر دینا چاہیے،لیکن اگر ہبہ کیے بغیر وہ ایک دوسرے کا حصہ آپس کی رضامندی سے استعمال کر رہے ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔
لما فی مشکوة المصابیح:(1/260،رحمانیہ)
عَن سعيد بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سبع أَرضين
وفی البدائع:(5/281،رشیدیہ)
أما) الأراضي المملوكة العامرة: فليس لأحد أن يتصرف فيها من غير إذن صاحبها؛ لأن عصمة الملك تمنع من ذلك
وفی فتح القدیر:(9/439،رشیدیہ)
قولہ:(ولو اصطلحوا فاقتسموا) یعنی لم یرفعوا الامر الی الحاکم بل اقتسموا بانفسہم باصطلاحھم،فھو جائز لما ان فی القسمۃ معنی المعاوضۃ فتثبت بالتراضی کما فی سائر المعاوضات
وکذا فی البحر:(8/269،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(5/138،الطارق)
وکذافی شرح المجلہ:(4/104،رشیدیہ)
وکذافی التتارخانیہ:(17/198،فاروقیہ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(9/444،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(6/4748،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1442/2021/2/1
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 76