سوال

زید نے ایک بیوہ کے ساتھ نکاح کیا،جسکا ایک بیٹا بھی تھا،پھر یہ لڑکا جوان ہوا، اور اس کا نکاح بھی ہو گیا،پھر یہ لڑکا فوت ہو گیا،تو کیا زید اس لڑکے کی بیوہ سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں،کر سکتا ہے۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار: ( 3/  31،سعید )
وأما بنت زوجۃ أبیہ أو ابنہ فحلال)وکذا بنت ابنھا،قال الخیر الرملی :ولا یحرم بنت زوج الأم ولا أامہ ولا أم زوجۃالأب ولا بنتھا ولا أم زوجۃالابن ولا بنتھا ولا أم زوجۃ الابن ولا بنتھا ولا زوجۃ الربیب ولا زوجۃالراب
وفی کتا ب الفقہ: ( 3/  51،حقانیہ )
 ولا زوجۃ الربیب ،فمن کان متزوجاًبامرأۃ  لھا ابنمن غیرہ ولہ مطلقۃ فانھا تحل لزوج أمہ
وکذافی  تنویر الابصار مع الدر المختار: (3 /83  ، سعید)
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/  172، رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق : (2 /102  ، امدادیہ)
وکذا فی  حاشیة البحر الرائق: (3 / 167 ، رشیدیہ )
وکذافی  الفقہ الاسلامی: (9 /  6663، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (4/106  ،دار احیاء تراث العربی )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ : (4 / 62 ،فاروقیہ )
وکذا فی الجو ھرة النیرہ: (2 /  111،قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/11/24/20/4/1444

جلدنمبر :28 فتوی نمبر:165

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔