الجواب حامداًومصلیاً
اگر معاملہ اتفاقاایسا ہوگیاکہ سجادنے اپنی بیچی ہوئی گاڑی دوبارہ خرید لی،پہلےسےایسی کوئی بات طے نہ تھی تو یہ معاملہ جائز ہے،لیکن اگرپہلے ہی سے یہ شرط لگائی گئی تھی کہ گاڑی اس شرط پر بیچی جارہی کہ جب بھی سجاد بارہ لاکھ دے گا،اکبر گاڑی واپس کرے گاتو یہ معاملہ ناجائز ہو گا،اس لیےکہ حقیقت میں تو اکبردس لاکھ پر سود لینا چاہتا تھا،لیکن فرضی کاروائی کے طور پر گاڑی کی خریدو فروخت کر لی گئی تاکہ نفع کمایا جاسکے، جب کہ حقیقت میں گاڑی کی خریدوفروخت کا ارادہ نہیں ہےتب بھی یہ معاملہ ناجائز ہو گا۔
لما فی الشامیة:(7 /580،رشیدیة)
و بیع الوفاءذکرتہ ھناتبعاللدرر صورتہ ان یبیعہ العین بالف علی انہ اذاردعلیہ الثمن رد علیہ العین ،وفی حاشیۃ الفصولین عن جواھر الفتاوی: ھو ان یقول: بعت منک علی ان تبیعہ منی متی جئت بالثمن فھذا البیع باطل وھو رھن و حکمہ حکم الرھن وھو الصحیح ،البیع الذی تعارفہ اھل زماننا احتیالاًللرباوسموہ بیع الوفاءھو رھن فی حقیقۃ لا یملکہ ولا ینتفع بہ الا باذن مالکہ وھو ضامن لما أکل من ثمرہ و أتلف من شجرۃ
وفی فقہ البیوع:(1/515،معارف القرآن)
بیع الوفاءھو البیع بشرط ان البائع متی رد الثمن یرد المشتری الیہ المبیع وھو فی حکم البیع الجائز بالنظر الی انتفاع المشتری بہ وفی حکم البیع الفاسد بالنظر الی کون کل من الطرفین مقتدرا علی الفسخ، وفی حکم الرھن بالنظر الی أن المشتری لا یقدر علی بیعہ الی الغیر ان شرط الوفاءان کان فی صلب العقد،فانہ یفسد البیع و یصیر رھناتجری علیہ جمیع الاحکام الرھن من انہ یحرم علی المشتری ان ینتفع بہ لانہ مرتھن فی الحقیقۃاما اذاکان صلب العقد خالیا من شرط الوفاء ثم وعد المشتری بان البائع کلما جاء بالثمن، فانہ یبیع ببیع جدید فھو بیع جائز یحل للمشتری الانتفاع بالمبیع، ویکون الوعد ملزما للمشتری
وکذافی دررالحکام شرح مجلةالحکام:(1/21، العربیة) وکذا فی المحیط البرھانی:(1/369،بیروت)
وکذافی الخانیة علی حاشیةالھندیة:(2 146/،رشیدیة) وکذا فی الفقه الاسلامی وادلته:(5 /3461،رشیدیة)
وکذافی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة:(4 /333،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
حررہ:محمداعظم عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1445/18/11/2023
جلد نمبر :30 فتوی نمبر :178