الجواب حامداًومصلیاً ومسلماً
سجدہ میں کہنیوں کا رانوں کےساتھ ملانا خلاف سنت ہے۔سجدہ میں جاتے اور اٹھتے وقت جان بوجھ کر پاؤں اٹھانا مکروہ ہے اور دوران سجدہ اگر دونوں پاؤں اس طرح اٹھائے کہ پورے سجدے میں ایک انگلی ایک لمحہ کے لیے بھی نیچے نہ لگی تو نماز درست نہیں ہو گی۔
لما فی الھندیہ(1/70،رشیدیہ)
ولو سجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لا یجوز ولو یضع احداھما جاز مع الکراھۃ ان کان بغیر عذر،وضع القدم بوضع اصابعہ وان وضع اصبعا واحدۃ فلو وضع ظھر القدم دون الاصابع بان کان المکان ضیّقاً ان وضع احداھما دون الاخری تجوز صلاتہ کما لو قام علیٰ قدم واحدۃ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید(1/207،الطارق)
ویکرہ تحریماً رفع القدمین عن الارض اثناء السجود ․ ومن السنۃ ان یوجہ اصابع قدمیہ نحو القبلۃ
وفی البحر الرائق(1/559،رشیدیہ)
قولہ (وابدی ضبعیہ )ای اظھر عضدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انما یظھرھما لحدیث الصحیحین انّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا سجد فرج بین یدیہ حتی یبدو بیاض ابطیہ․ولحدیث مسلم ”اذا سجدت فضع کفیک وارفع مرفقین
وکذا فی التنویر و الدر(2/167،رشیدیہ) وکذا فی المحیط البرھانی(2/123،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(2/178،فاروقیہ) وکذا فی البحر الرائق(1/555،رشیدیہ)
وفی الفتاویٰ الھندیہ(1/75،رشیدیہ) وفی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(283،قدیمی کتب خانہ)
وفی الھدایہ(1/100،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443-2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:198