سوال

سفر میں جمع بین الصلاتین کے حوالے سے ظہر و عصر کا وقت معلوم کرنا تو مثل اول و ثانی کے اعتبار سے آسان ہے۔ لیکن مغرب میں وہ مشترک وقت (جو کہ احناف کے ہاں مختلف فیہ ہے) کب ہوتا ہے جس میں مغرب و عشاء دونوں پڑھ سکیں؟ میں نے کسی سے سنا ہے کہ مغرب کا وقت داخل ہونے کے پونے گھنٹہ (45 منٹ) کے بعد مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

محتاط قول کے مطابق آغازِ وقتِ عشاء سے تقریبا 10 منٹ پہلے معذور اور مسافر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

لما فی فیض الباری: ( 2/133، رشیدیہ)
وهكذا أقول بالاشتراك بين المغرب والعشاء، ففي المغرب أيضا روايتان عن الإمام. الأولى: أنها إلى الشفق الأبيض، قالوا: إنه ظاهر الرواية. والثانية: أنها إلى الأحمر.
قلت: الأحمر، وقت مختص بالمغرب، وما بعد الأبيض وقت مختص بالعشاء، والأبيض يصلح لهما، والمطلوب هو الفاصلة، وترتفع تلك المطلوبية في السفر والمرض، فيجوز الجمع فيه كالجمع بين الظهرين في المثل الثاني،… وإليه تومىء الأحاديث لتعرضها إلى التأخير والتعجيل، وهما أصدق وأفيد على نظر الحنفية، وإن صدقا على نظرهم أيضا، لكن ليس فيه لطف.
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 1/668، رشیدیہ)
و بین الشفقین تفاوت یقدر بثلاث درجات، و الدرجۃ أربع دقائق.
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 1/72، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 2/14، ادارة القرآن)
وکذافی فتح الملھم: ( 4/77، مکتبہ دارالعلوم)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/7، فاروقیہ)

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/9/1440، 2019/5/26
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :69

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔