سوال

سنار زیورات کی فروختگی کے وقت گاہک کو زیورات کے حقیقی وزن سے زائد کی رسید بناکر دیتے ہیں اور زائد وزن کی قیمت گاہک سے وصول کرتے ہیں ،حالانکہ زائد وزن زیورات میں بالکل نہیں ہوتا اب گاہک کے پوچھنے پر سنار کہتے ہیں کہ زیورات کی تیاری میں اتنا وزن کم ہوا ہےلہذا اس کی قیمت بھی آپ کے ذمہ ہے،اس کو خسارہ پالش کہتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ اس زائد وزن کی قیمت گاہک سے وصول کرناجائز ہے یا نہیں ؟ درحقیقت زیورات کی تیاری میں کچھ نہ کچھ سونا کم بھی ہوجاتا ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

سونے کے زیور بنانے میں جس قدر وزن میں کمی واقع ہوئی ہے ،گاہک پر اس کی وضاحت کئے بغیر اس کی قیمت وصول کرنا درست نہیں ہے ،لیکن اگر اس کی وضاحت کردی تو پھر زائد قیمت وصول کرنا جائز ہے ۔اگر گاہک سونے کے وزن سے زائد قیمت ادا نہیں کرتا تو سنار اپنی کاریگری کی قیمت بڑھا کر گاہک سے زائد وصول کرسکتا ہے۔

لما فی:القرآن الکریم(سورة النساء،29)
” یاایھا الذین اٰمنو لاتاکلو اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم. “
وفی صحیح البخاری:(1/377،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم البیعان بالخیار مالم یتفرقا فان صدقا وبینا بورک لھما وان کذبا وکتما محقت برکة بیعھما
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/13،معارف القرآن)
وللبائع ان یبیع بضاعة بماشاء من ثمن،ولا یجب علیہ ان یبیعہ بسعر السوق دائما،وللتجار ملاحظ مختلفة فی تعین الاثمان وتقدیرھا فربما تختلف اثمان البضاعة باختلاف الاحوال ولا یمنع الشرع من ان یبع المرء سلعة بثمن فی حالة وبثمن آخر فی حالة الاخریٰ
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/134،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(1/367،رحمانیہ)
وکذافی در الحکام شرح مجلة الاحکام:(3/201،العربیة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/6،الحسن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1444/2022/2/12
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:160

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔