سوال

سنن ابی داؤد میں حج کے متعلق ایک روایت” من اراد الحج فلیتعجل“ کے الفاظ سے مذکور ہے ،جبکہ چالیس اسباق میں یہ الفاظ” من اراد الحج فلیعجل“لکھے گئے ہیں۔سوال یہ ہے کیا فلیعجل کے لفظ سے یہ روایت صحاح ستہ یا حدیث کی کسی اور مستند اوربنیادی کتاب میں مذکور ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

فلیعجل“کے لفظ کے ساتھ مشکوۃ المصابیح ،عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری اورفیض الباری میں آئی ہےاور سنن دارمی میں فلیسعجل“ کے لفظ سے مذکور ہے۔

لما فی : مشکوۃ المصابیح (1/225،رحمانیہ)
من اراد الحج فلیعجل رواہ ابو داؤد والدارمی
وفی فیض الباری:(3/174،الرشید)
من اراد الحج فلیعجل
وفی سنن ابی داؤد:(1/254،رحمانیہ)
من اراد الحج فلیتعجل
وفی شرح مسند ابی حنیفہ:(1/297،شاملہ)
من اراد الحج فلیعجل
وکذافی عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری:(8/127،بیروت)
وکذافی مرقاہ المصابیح:(5/397،المکتبہ التجاریہ)
وکذافی سنن دارمی :(2/45،قدیمی)
وکذافی فتاوی السبکی:(1/263،شاملہ)
وکذافی حاشیہ مسند ی علی سنن ابن ماجہ:(2/207،شاملہ)
وکذافی مرعاہ المفاتیح:(8/289،شاملہ)
وکذافی ذخیرۃالعقبی فی شرح المجتبی:(23/271،شاملہ)
وکذافی مجموع فیہ مصنفات ابی جعفر ابن البختری:(1/223،شاملہ)
وکذا فی الاربعون حدیثا للاجری:(1/64،شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1442/2021/3/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:35

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔