سوال

سودی بینک کے ملازم کو اپنا مکان کرایہ پر دے سکتے ہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کا کام ایسا ہو جس کا براہ راست تعلق سودی معاملات سے نہیں مثلاً گارڈ یا ڈرائیور وغیرہ ہو تو اس کو مکان کرایہ پر دینا جائز ہے۔
البتہ اگر اس کا کام براہ راست سودی معاملات سے متعلق ہو مثلا سود کا حساب کتاب رکھنا تو اس کو مکان کرایہ پر دینا درست نہیں، لیکن اگر اس کا کوئی اور حلال ذریعہ آمدن ہو اور وہ اسی حلال آمدن سے کرایہ ادا کرنے کا یقین دلائے تو پھر اس کو مکان کرایہ پر دیا جا سکتا ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/118،رحمانیہ)
عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود عن أبیہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا و موکلہ و شاہدہ و کاتبہ
وفی تکملة فتح الملھم:(1/619،دارالعلوم کراتشی)
ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ أو الحساب فذلک حرام لوجھین الأول إعانۃ علی المعصیۃ و الثانی أخذ الأجرۃ من المال الحرام فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا و أما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال
وکذافی الشامیة:(9/635،936،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/369،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1021،معارف القرآن)
وکذافی شرح الحموی علی الاشباہ و النظائر:(1/310،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/342،343،رشیدیہ)
وکذافی إعلاء السنن:(14/482،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1442/2021/5/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:173

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔