سوال

سور المومن شفاء.” حدیث ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

خاص ان الفاظ کے ساتھ حدیث ثابت نہیں ہے۔

لما فی کشف الخفاء و مزیل الالباس: (1/458، ط: الغزالی)
سؤر المؤمن شفاء” قال النجم: لیس بحدیث
و فی الموضوعات الکبریٰ: (129، ط: قدیمی)
و اما مایدور علی الالسنۃ من قولھم : “سؤر المؤمن شفاء” فصحیح من جھۃ المعنی لروایۃ الدارقطنی فی الافراد من حدیث ابن عباس مرفوعاً: من التواضع ان یشرب الرجل من سؤر اخیہ ای المؤمن
و کذا فی المقاصد الحسنہ: (239، ط: النوریہ الرضویہ)
و کذا فی المرقاہ شرح المشکوہ (5/552، ط: التجاریہ)
و کذا فی کشف الخفاء و مزیل الالباس: (1/436،ط: الغزالی)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:127

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔