الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسئولہ میں عرف زرگراں کودیکھا جائے گاکہ وہ آپس میں معاملہ کرتے وقت ایسے سونے کو کیا شمار کرتے ہیں؟اگر معروف مقدار کےمطابق کھوٹ ہواور دکاندار اور گاہک اس کو”خالص سونا “شمار کرتے ہوں تو اس کو ”خالص سونا “کہہ کرفروخت کرنا درست ہےاور اگر معروف مقدارسے زائد کھوٹ ہو یا گاہک ناواقف ہو تو پھر اس کو خالص سونا کہہ کرفروخت کرنا جائز نہیں۔بلکہ کھوٹ کی مقدارکی وضاحت کرنا ضروری ہے۔
لما فی الھندیہ: ( 3/ 67 ، رشیدیة)
“قال القدوری فی کتابہ کل ما یوجب نقصانافی الثمن فی عادۃ التجارفھو عیب.”
وفی رد المحتارعلی الدرالمختار:(5/3،ایچ ایم سعید)
قولہ مایخلو عنہ اصل الفطرۃالسلیمۃ)زاد فی الفتح مما یجد بہ ناقصا ای لان ما لا ینقصہ لا یعد عیبا(علی الصفحۃ الاتیۃ)کذالا یرد اناءفضۃبرداءتہ بلا غش۔”
وکذا فی فتح القدیر:(6/329،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/544،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/81،بیروت)
وکذا فی شرح العینی:(2/21،ادارۃ القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3558،رشیدیة)
وکذا فی الھدایہ:(3/42،رحمانیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(9/117،فاروقیة)
وکذا فی شرح الوقایة:(29،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی:(1/364،رحمانیة)
وکذافی الصحیح المسلم:(2/13،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی:(1/36،رحمانیة)
وکذافی تکملۃ فتح الملھم:(1/376،دارالعلوم کراتشی)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
24-03-1443/2021-10-31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:104