الجواب حامدا ومصلیا ومسلما
اگر یقین ہو کہ شرح ملاوٹ زیادہ ہے تو پھر وہی کم شرح ملاوٹ بتا کر بیچناجائز نہیں، بلکہ یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے احادیث میں اس کی صریح ممانعت آئی ہےاور اگر بعد میں خریدار کو پتا چل گیا تو اس کو واپس کرنے کا اختیار ہو گا۔
لما فی جامع التر مذی:(1/378،رحمانیہ)
عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الکبائر قال الشرک باللہ وعقوق الوالدین و قتل النفس وقول الزور․
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انّ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّ علی صبرۃ من طعام فادخل یدہ فیھا فاصابہ بللا فقال:یا صاحب الطعام ما ھذا قال اصابتہ السماء یا رسو ل اللہ قال:افلا جعلتہ فوق الطعام حتیٰ یراہ الناس ثم قال: من غش فلیس منّا
وفی الفتاویٰ الھند یہ:(3/66،رشیدیہ)
”اذا اشتریٰ شیئا لم یعلم بالعیب وقت الشراء ولا علمہ قبلہ والعیب یسیر او فاحش فلہ الخیار ان شاء رضی بجمیع الثمن وان شاء ردّہ
وکذا فی سنن ابی داوٗد:(2/133،رحمانیہ) وکذا فی سنن ابن ماجہ:(،162،160،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/42،رحمانیہ) وکذا فی شرح المجلہ:(2/290،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ:(7/166،رشیدیہ) وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ:(3/66،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/58، رشیدیہ) وکذا فی فتح القدیر:(6/327، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلّتہٗ:(5/3558،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/2/1443-2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:35