سوال

عامر نے ربیعہ سے نکاح کیا ، اللہ جل جلالہ نے تین بچے عطاکیے ، اب عامر نے ربیعہ کی والدہ سے نکاح کرلیا ہے ۔ حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ عامر کے والد کا ربیعہ کی والدہ سے نکاح جائز ہے ؟اس سے عامر اور ربیعہ کے نکاح پر زد تو نہیں پڑی ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

محض بیٹے کی ساس ہونا ، نکاح سے مانع نہیں ہے ۔ اس لیے صورت مسئلہ میں نکاح جائز ہے ، بشرطیکہ کوئی اور وجہ نکاح کے عدم جواز کی نہ ہو ۔

لما فی ردالمحتار:(3/31،سعید)
ولاتحرم بنت زوج الام…… ولا ام زوجۃ الابن
وفی الھندیة:(1/277،رشیدیہ)
لاباس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(2/208،قدیمی)
وکذافی تفسیرالمنیر:(3/9،امیرحمزہ)
وکذافی معالم التنزیل:(1/413،بیروت)
وکذافی البدائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/587،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:17

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔